مولانا رومی رح کی ایک مختصر حکایت

 مولانا رومی رح کی ایک مختصر حکایت 

مولانا رومی ایک حکایت لکھتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کے دور اک شکاری نے نر کبوتر کا شکار کیا جس پر مادہ کبوتر نے انصاف کے لیے حضرت سلمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہو کر شکاری کے خلاف شکایت کی۔ سلمان علیہ السلام نے شکاری کو بلایا اور پوچھا کہ نر کبوتر کو تم نے کیوں مارا ہے؟ جواب میں شکاری نے کہا اے اللہ کے پیغمبر علیہ السلام کبوتر حلال ہے، اور ہمیں حلال شکار کی اجازت ہے تب میں نے یہ شکار کیا، اس میں غلط کیا ہے۔


شکاری کی بات سننے کے بعد کبوتر نے سلمان علیہ السلام سے عرض کی، اے اللہ کے پیغمبر علیہ السلام مجھے اس پر اعتراض نہیں کہ اس نے میرے نر کبوتر کا شکار کیا، بلکہ اعتراض اس کی دھوکے بازی پر ہے کہ یہ شکاری کے لباس کے بجائے عام لباس میں آیا، اگر یہ شکاری کے لباس میں آتا تو ہم اپنی حفاظت کر سکتے تھے، لہذا اس نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا اس لیے اسے سزا ہونی چاہیے۔


ٹھیک اسی طرح ہمیں بھی اس پیلی پگڑی والے مولوی کے کردار پر کوئی اعتراض نہیں، بیشک یہ چوروں کا دفاع کرتا رہے، بیشک یہ وزارتوں کے لیے در در بھٹکتا رہے، بیشک یہ اسلام مخالف بلوں کی حمایت کرتا رہے، ہمیں اگر اعتراض ہے تو اس کے اس دہرے معیار پر کہ یہ سب اگر اس نے کرنا ہے تو مذہب کے لبادے میں نہ کرے، اسلام کا نام استعمال کر کے نہ کرے اسلام کے نام پر مساجد و مدارس کے دفاع کے نام پر قوم کے ساتھ دھوکہ نہ کرے۔



Comments

Popular posts from this blog

لوگ یوم آزادی کو کیوں مناتے ہیں ؟

بنگلہ دیش کی ترقی کا ایک راز

ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ