حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہجرت

 حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا تو ذکر ہی کیا ہے بچہ بچہ ان کی بہادری سے واقف اور شجاعت کا معترف ہے اسلام کے شروع میں جب مسلمان سب ہی ضعف کی حالت میں تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسلام کی قوت کے واسطے عمر رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کی دعا کی جو قبول ہوئی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ کعبہ کے قریب اس وقت تک نماز نہیں پڑھ سکتے تھے جب تک کہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان نہیں ہوئے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اول اول ہر شخص نے ہجرت چپ کر کی مگر جب عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ہجرت کا ارادہ کیا تو تلوار گلے میں ڈالی کمان ہاتھ ملی اور بہت سے تیر ساتھ لیے اول مسجد میں گئے طواف اطمینان سے کیا پھر نہایت اطمینان سے نماز پڑھی اس کے بعد کفار کے مجموع میں  گئے اور فرمایا کہ جس کا یہ دل چاہے کہ اس کی ماں اس کو روئے اس کی بیوی رانڈ ہو اس کے بچے یتیم ہو وہ مکہ سے باہر ا کر میرا مقابلہ کرے یہ الگ الگ جماعتوں کو سنا کر تشریف لے گئے کسی ایک شخص کی بھی ہمت نہ پڑی کہ پیچھا کرتا۔

(حکایت صحابہ ، باب ہفتم ، قصہ 10)



یہ تھی عظیم صحابی خلیفہ دوم امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شجاعت اور بہادری کا ایک داستان کہ جب وہ گھر سے نکلتے تھے تو کفاروں پر لرزا طاری ہو جاتی تھی اللہ تعالی مسلم امہ کو اپ کے جیسا بہادر اور شجاعت والا ایک عظیم لیڈر عطا فرمائے ۔

آمین

آفتاب خٹک رائٹس 

Comments

Popular posts from this blog

لوگ یوم آزادی کو کیوں مناتے ہیں ؟

بنگلہ دیش کی ترقی کا ایک راز

ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ