Posts

ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ

 🌍 ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ — پس منظر، وجوہات اور اثرات دنیا اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سیاست، معیشت اور امن کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ لیکن آخر یہ صورتحال پیدا کیوں ہوئی؟ کیا یہ محض طاقت کا کھیل ہے یا اس کے پیچھے گہرے نظریاتی اور تاریخی عوامل کارفرما ہیں؟ آئیے غیرجانبدار تجزیے کے ساتھ اس تنازع کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 🕰 تاریخی پس منظر ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کی بنیاد 1979 کے ایرانی اسلامی انقلاب سے جڑی ہوئی ہے۔ انقلاب کے بعد ایران نے خود کو مغربی اثر سے آزاد ایک اسلامی جمہوریہ کے طور پر پیش کیا، جبکہ اسرائیل کو “غاصب ریاست” قرار دیا۔ دوسری جانب امریکہ، جو اسرائیل کا قریبی اتحادی ہے، ایران کے اس نظریاتی مؤقف سے شروع سے نالاں رہا۔ اسی دور سے تینوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی اور دشمنی کا آغاز ہوا۔ 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران امریکہ نے بالواسطہ طور پر عراق کی حمایت کی، جس سے ایرانی قیادت کے خدشات مزید گہرے ہو گئے...

لوگ یوم آزادی کو کیوں مناتے ہیں ؟

Image
لوگ یوم آزادی کیوں مناتے ہیں    لوگ یوم آزادی کو اس دن کی یاد اور احترام کے لیے مناتے ہیں جب ان کے ملک نے  نوآبادیاتی حکمرانی یا غیر ملکی تسلط سے آزادی حاصل کی ہوتی ہے ۔ یہ دن بہت زیادہ تاریخی اور ثقافتی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ خود مختاری، خودمختاری اور قومی شناخت کے ایک نئے دور کا آغاز کرتا ہے۔ یہ تقریبات بانیوں، آزادی پسندوں اور اپنے ملک کی آزادی کے لیے لڑنے والے عام شہریوں کی قربانیوں کی یاد دہانی کے طور پر کام کرتی ہیں۔ یہ ان جدوجہد ، مشکلات اور لچک پر غور کرنے کا وقت ہے جنہوں نے ان کی قوم کی خودمختاری اور آزادی کی راہ ہموار کی۔ یوم آزادی کی تقریبات میں اکثر مختلف ثقافتی، سماجی اور سیاسی سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔ ان میں عوامی تقاریر، پریڈ، پرچم کشائی کی تقریبات، آتش بازی کی نمائش، محافل موسیقی، ثقافتی پرفارمنس ، اور کمیونٹی کے اجتماعات شامل ہو سکتے ہیں۔ ایسے واقعات لوگوں کو متحد ہونے، اپنی حب الوطنی کا اظہار کرنے اور اپنے ملک کی کامیابیوں پر فخر کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ مزید برآں، یوم آزادی کی تقریبات شہریوں میں قومی یکجہتی ، یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبات ...

بنگلہ دیش کی ترقی کا ایک راز

Image
 جی ہاں اپ نے تصویر ملاحظہ کی ہوگی یہ تصویر بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد صاحبہ کی ہے جو کہ اس وقت بنگلہ دیش کی وزیراعظم ہے ۔ مجھے اس بات کا پتہ نہیں لیکن اپ کو یہ بتاؤں کہ بنگلہ دیش ہمیں لات مار کر ازاد ہوا نہ ان کے پاس کوئی ایٹم بم ہے نہ ان کے پاس اعلی سطح کی کوئی انٹیلیجنس ایجنسی ہے نہ ان کے پاس دنیا کا نمبر ون فوج ہے اور نہ ہی ان کی فوجی سربراہ اپنی معیاد سروس بڑھاتے ہیں نہ ان کے پاس کوئی ہینڈسم وزیراعظم ہے اور نہ ہی ان کی وزیراعظم اپنی منصوبوں کا احسان قوم پر جتاتے ہیں نہ ہی یہ امریکہ کی خوشامد کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی جہادی تنظیمیں ہیں لیکن یہ پھر بھی ترقی کر رہے ہیں اج بنگلہ دیش کا ایک ٹکا پاکستان کی دو روپے کے برابر ہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے سربراہ ہماری اپنی ہی قوم پر احسانات جتاتے ہیں اور قوم کے ٹیکسوں سے جو کام ہوئے ہیں اس پر اپنی بڑائی بیان کرتے ہیں اور حتی کہ قوم پر خود کو زبردستی نمبر ون منوانے پر تلے ہوئے ہیں تو قوم ایسی ترقی نہیں کرتی اس کے لیے ہمیں علمی فکری اور اخلاقی شعور کو اپنانا ہوگا ۔ آفتاب خٹک رائٹس 

میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا۔ حبیب جالب کی نظم دستور

Image
" حبیب جالب کی نظم " دستور   دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے ظلم کی بات کو جہل کی رات کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا پھول شاخوں پہ کھلنے لگے تم کہو جام رندوں کو ملنے لگے تم کہو چاک سینوں کے سلنے لگے تم کہو اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

آیک غریب مسلمان درزی کا جنازہ

Image
 ایک غریب درزی کا جنازہ  لکھنو بازار میں ایک غریب درزی کی دکان تھی جو ہر جنازے کے لۓ دکان بند کرتے تھے... لوگوں نے کہا کہ اس سے آپ کے کاروبار کا نقصان ہوگا، کہنے لگا کہ علماء سے سنا ہے کہ جو کسی مسلمان کے جنازے پر جاتا ھے کل اس کے جنازے پر لوگوں کا ہجوم ہوگا...۔ میں غریب ہوں اور نا ہی زیادہ لوگ‏ مجھے جانتے ہیں تو میرے جنازے پر کون آۓ گا... اس لیے ایک تو مسلمان کا حق سمجھ کر پڑھتا ہوں اور دوسرا یہ کہ شاید اس سے ہی اللہ پاک راضی ہو جائیں  اللہ پاک کی شان دیکھیں کہ 1902ء میں مولانا عبد الحئی لکھنوی صاحب کا انتقال ہوا... ریڈیو پر بتلایا گیا، اخبارات میں جنازے کی خبر آگئی.. ‏جنازے کے وقت لاکھوں کا مجمع تھا. پھر بھی بہت سے لوگ انکا جنازہ پڑھے سے محروم رہ گئے  جب جنازہ گاہ میں ان کا جنازہ ختم ہوا تو اسی وقت جنازہ گاہ میں ایک دوسرا جنازہ داخل ہوا. اور اعلان ہوا کہ ایک اور عاجز مسلمان کا پڑھ کر جائیں یہ دوسرا جنازہ اس درزی کا تھا مولانہ کے جنازے کے سب لوگ بڑے بڑے اللہ والے علما کرام سب نے اس درزی کا جنازہ پڑھا جو لوگ رہ گئے تھے وہ بھی اسُمیں شامل ہوگئے اس غریب کا جنازہ تو مول...

سابق وزیراعظم عمران خان کی استقامت

Image
 ‏ایک بار کسی نے عظیم باکسر محمد علی سے پوچھا: " بتاؤ محمد علی کسی بھی سپورٹس مین کیلئے " Skill " زیادہ ضروری ہوتی ہے یا " Will "؟؟ محمد علی نے جواب دیا: " دونوں چیزیں ضروری ہوتی ہیں لیکن "Will" زیادہ ضروری ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر مخالف نے میری ناک پر گھونسا رسید کر دیا, میری skills اس  "گھونسے" کو روکنے میں ناکام رہیں اور میں زمین پر گر پڑا تو اس کا مطلب ہے میری " Skill " نے تو مجھے نیچے گرا دیا لیکن اب جو چیز مجھے دوبارہ کھڑا کرے گی وہ میری " Will " ہوگی۔"  چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی Skill نے تو نیچے گرا دیا لیکن ان کی Will Power نے انہیں پھر سے مخالفین کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ وہ اپنی عوام کیساتھ مل کر دوبارہ سے برسرپیکار ہے اور ان شاءاللہ اس بار جیت عمران خان کی ہی ہوگی۔ سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان اپنے اوپر درج سینکڑوں مقدمات قائم ہونے کے باوجود بھی استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر کیس کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں اور اس میں خصوصی داد دینا ان کی لیگل ٹیم کو بھی دینا پڑے گی جو روز نئے نئے مقدمات ق...

مصر کی تاریخ کا پہلا فوجداری مقدمہ

Image
 مصر کی تاریخ کا پہلا فوجداری مقدمہ  ‏مصر کی المنصورہ یونیورسٹی کے فیکلٹی آف آرٹس کے تیسرے سال کا طالب علم محمد عادل اپنی یونیورسٹی فیلو سے شادی کا خواہشمند تھا۔ رشتہ بھیجا تو والدین اور لڑکی نیرہ اشرف کی طرف سے انکار پر اس نے لڑکی کو یونیورسٹی میں  👇 لڑکی کی فوٹو ‏فیکلٹی آف آرٹس کے سامنے چھریاں مار کر قتل کردیا ۔ یہ واحد مقدمہ مصر کی فوجداری عدالت میں 48 گھنٹے چلا اور فیصلہ سنادیا گیا، عادل کو موت کی سزا دی گئی، بعد از اپیل اس کی درخواست مسترد کی گئی۔ چونکہ اس نے عوامی جگہ پر نیرہ اشرف کو چھریاں ماری ‏تھیں۔عدالت نے فیصلہ دیا کہ اسے اسی جگہ پھانسی دی جائے۔بالآخر محمد عادل کو گزشتہ ماہ المنصورہ یونیورسٹی کے فیکلٹی آرٹس کے قریب بس اسٹاپ جانے والے راستے پر ہی پھانسی دی گئی۔